اسلام آباد:
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ خادم رضوی کی جانب سے عدلیہ فوج اور اداروں کے خلاف زبان استعمال کی گئی، خادم رضوی کے خلاف 4دن ایکشن کیوں نہ لیا جبکہ کمیٹی نے پی ٹی سی ایل اور اتصالات کے درمیان معاہدے کی تفصیلات طلب کرلیں۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئر پرسن سینیٹرروبینہ خالد کی زیر صدارت ہوا،یف آئی اے کی طرف سے پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 میںترامیم زیر غورآئیں۔ چیئرپرسن نے سوال کیاکہ کیاآپ نے ترامیم تجویز کرنے سے قبل پی ٹی اے سے مشاورت کی ؟ڈائریکٹر ایف آئی اے کیپٹن(ر)شعیب نے کہاکہ ہم پی ٹی اے سے متعدد فورمزپر رابطے میں رہے ہیں۔

چیئر پرسن کمیٹی نے کہاکہ ایف آئی اے اورپی ٹی اے کے درمیان کوئی کوآرڈینیشن نہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے اورپی ٹی اے افسران ایک دوسرے کے دفاترمیں بیٹھیں، اگر8 دن کے اندرکمیٹی ہدایات پر عمل نہیںہوتا توذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے، چیئر پرسن کمیٹی نے کہاکہ خادم رضوی کی جانب سے عدلیہ فوج اور اداروں کے خلاف زبان استعمال کی گئی۔ خادم رضوی کے خلاف 4 دن ایکشن کیوں نہ لیا۔

 

چئیرمین پی ٹی اے نے کہاکہ ہم نے ٹویٹر انتظامیہ کو خادم رضوی کااکاؤنٹ بلاک کرنے کی درخواست کی تھی۔ ٹویٹر انتظامیہ کواکاؤنٹ بند کرنے کے حوالے سے یاددہانی بھی کرائی گئی۔ اتھارٹی نے خادم رضوی کاٹویٹر اکاونٹ بلاک کردیا۔

رحمن ملک نے کہاکہ خادم رضوی کے اکاؤنٹ سے انگریزی کتنی خوبصورتی سے لکھی جارہی تھی، یہ اکاونٹ کیسے بناکس نمبر پہ بنا،کس ریجن سے تحقیقات کی جائیں۔