اسلام آباد:
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں قانونی کی حکمرانی یقینی بنائی جائے گی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعظم عمران خان كی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں مسلح افواج كے سربراہان، چئیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف كمیٹی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر مملكت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے شرکت کی۔

یہ پڑھیں: چیف جسٹس کا آسیہ بی بی کیس کے فیصلے پر توڑ پھوڑ کا نوٹس

 

اجلاس كے بعد جاری اعلامیے کے مطابق شرکا نے سیكیورٹی كی صورتحال كا جائزہ لیا اور کہا کہ ملک كی ترقی اور استحكام قانون كی حكمرانی میں ہے۔ ذرائع كا كہنا ہے قومی سلامتی كمیٹی كے اجلاس میں ملكی سیكیورٹی اور امن و امان كا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں حالیہ دھرنوں كے بعد پید اہونے والی صورتحال بھی زیر غور آئی۔  شركاء اس بات پر متفق تھے كہ ملک میں قانون كی حكمرانی كو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا اور اس پر كوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا کیوں کہ ملكی ترقی اور خوشحالی تب ہی ممكن ہے جب ملک میں قانون كی حكمرانی ہوگی۔

اجلاس میں وزیر داخلہ برائے مملكت نے دھرنوں كے اندر توڑ پھوڑ كے مرتكب افراد كے خلاف كارروائی كے بارے میں اجلاس كے شركا كو بریفنگ بھی دی۔ اجلاس میں شرپسندوں كے خلاف كارروائی پر اطمینان كا اظہار كیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس كے شركاء كو بتایا ان كا دورہ چین انتہائی موثر رہا اور ملكی معیشت كی ترقی كے لیے چین كے ساتھ كیے جانے والے معاہدے موثر ثابت ہوں گے۔ وزیر اعظم نے روسی ہم منصب كے ساتھ شنگھائی میں ہونے والی ملاقات كے بارے میں بھی شركاء كو اعتماد میں لیا۔