کابل / لندن / برسلز: افغانستان میں 2 بم دھماکوں میں 6 اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک جب کہ سیکیورٹی فورسز نے 99 طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، جھڑپوں میں افغان فوج کے 3 اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق صوبہ غزنی کے ضلع انبار میں ایک پولیس وین سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکراگئی جس میں 6 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔ ضلع گیلان میں بھی ایک موٹرسائیکل سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی جس  میں مزید 3  افغانستان، 2 بم دھماکوں میں 9 افراد ہلاک، 99 طالبان بھی مارے گئےشہری جاں بحق ہوگئے۔ دریں اثنا افغان سیکیورٹی فورسز اوراتحادی فوج نے  ملک کے مختلف علاقوں میں آپریشن کے دوران 99 طالبان جنگجوئوں کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

صوبے ہلمند میں نیٹوطیاروں کی بمباری سے طالبان کے سینئر لیڈرسمیت 21 جنگجو مارے گئے۔  وزارت دفاع کے ترجمان جنرل ظاہرعظیمی نے ایک بیان میں کہا کہ افغان فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آپریشن میں  طالبان جنگجوئوں کوہلاک کیا جس میں 7 پاکستانی جنگجو بھی شامل ہیں۔ فورسز نے بھاری مقدار میںمختلف اقسام کے ہتھیار اور دھماکا خیزمواد بھی قبضے میں لے لیا۔ جھڑپوں میں افغان فوج کے 3 اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ قندوز میں فورسز نے 6 دہشت گردوں کوگرفتار کرلیا۔ فورسزنے آپریشن صوبہ ننگرہار،لغمان،قندوز،قندھار،ارزگان،میدان وردک،لوگر اور ہلمند میںکیا۔ ادھر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے افغانستان میں شہری  ہلاکتوں کے حوالے سے امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ہزاروں افغان شہریوں کے خاندان انصاف سے محروم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے پاس امریکی فوج کے خامیوں سے پْرنظام انصاف کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ علاوہ ازیں بیلجیئم کے آرمی چیف جنرل گیرارڈ وان کائیلیبرگ نے افغانستان کا اچانک دورہ کیا۔ انھوں نے افغان حکام سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔