لاہور:
پاکستان ہاکی لیگ کوآئندہ برس کے آغاز میں کرانے کا فیصلہ کرلیاگیا، لیگ پر 20 کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے، اسپانسر شپ اور دوسرے ذرائع سے ملنے والی زیادہ تر رقم کھلاڑیوں پر خرچ کی جائے گی۔

لیگ کے ابتدائی ایڈیشن میں 5 یا 6 ٹیموں میں 4، 4 غیر ملکی کھلاڑی شامل کرنے کا منصوبہ ترتیب دے دیاگیا۔تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل کی فرنچائز سے3 سالہ معاہدہ طے پا جانے کے بعد پی ایچ ایف کے حوصلے بلند ہو گئے اورحکام نے آئندہ برس کے آغاز میں ہی پاکستان کی پہلی ہاکی لیگ کرانے کا منصوبہ بنالیا، پی ایچ ایف ذرائع کے مطابق فروری میں شیڈول پہلے ایڈیشن کے مقابلے لاہور، فیصل آباد اور گوجرہ میں کروائے جانے کا امکان ہے، لیگ کا دورانیہ 3 ہفتے تک رکھنے پراتفاق ہوا ہے جبکہ لیگ میں آسٹریلیا، جرمنی اور ارجنٹائن سمیت دنیا کے متعدد ممالک کو مدعو کیا جائیگا، مجموعی طور پر 5 یا 6 ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جس میں 4،4 غیر ملکی کھلاڑیوں کو لیگ کا حصہ بنانا ضروری ہوگا۔

پی ایچ ایف کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق پاکستان کی پہلی ہاکی لیگ کے کامیاب انعقاد کے لیے پرعزم ہیں، لیگ ہر حال میں پاکستان میں ہی ہوگی۔ ’’ایکسپریس‘‘ سے بات چیت میں فیڈریشن عہدیدار کا کہنا تھاکہ جس طرح یورپ میں فٹبال خاصا مقبول ہے ، اسی طرح پاکستان میں کرکٹ کھیلنے والوں کی کمی نہیں، ہاکی نے پاکستان کو اولمپکس، ورلڈ کپ، چیمپئنز ٹرافی سمیت دنیا بھر کے ٹائٹلز جتوائے لیکن بدقستمی سے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے قومی کھیل زوال کا شکار ہے اوراب اس کھیل سے وابستہ پلیئرزکے پاس اچھی ملازمتیں ہیں اور نہ ہی دوسری سہولیات ہیں۔

 

پاکستان ہاکی لیگ کروانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ اس کھیل سے وابستہ کھلاڑیوں کو ان کا جائز حق دلایا جائے، لیگ کی وجہ سے پلیئرز کے معاشی حالات میں بہتری آئے گی، 1994 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کپتان نے کہا کہ جب ہاکی کے کھیل میں خوشحالی آئے گی تو نوجوان کھلاڑیوں کا پول بھی بڑھے گا اور قومی ٹیمیں تشکیل دینے میں بھی مدد ملے گی۔