لاہور:  نامور بھارتی شاعر اوراسکرپٹ رائٹر جاوید اختر کا کہنا ہے کہ پاک و ہند میں ہر شخص گلوکار ہے اور یہاں گیت سننے کا رجحان ہے تاہم ہم لوگ مغرب کی اندھا دھند نقل کرتے ہیں۔

لاہور میں فیض انٹرنیشنل فیسٹیول کے دوسرے روز ایک نشست کے دوران جاوید اختر نے کہا اردو زبان انتہائی مشکل ہے، 12 سال کی عمر میں اچھی شاعری کی سمجھ آچکی تھی، اس کے باوجود کافی برس تک شعر کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔

جاوید اختر نے کہا شاعر کو کبھی کبھی کڑوی بات بھی کہنی چاہئے، اشعار سے لوگوں کے ایمان بدل جاتے ہیں، اس پر مجھے اعتراض ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں ہر شخص گلوکار ہے اور یہاں گیت سننے کا رجحان ہے، جب کہ مغرب میں میوزک سننے کے لئے نہیں بلکہ ڈانس کیلئے بنایا جاتا ہے، تاہم ہم لوگ مغرب کی اندھا دھند نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی شہرہ آفاق فلم ’شعلے‘ کے حوالے سے کہا شعلے ایک ایسی فلم تھی جس کے تمام کردار آج بھی مقبول ہیں۔

بھارتی نغمہ نگار نے دوران تقریب دوبارہ فلم اسکرپٹ لکھنے کی خبر سنائی جب کہ ان کی کتاب ’ترکش‘ منٹوں میں فروخت ہوگئی، جاوید اختر بھارت سے  65 کتابیں لائے ہیں۔

واضح رہے کہ جاوید اختر اپنی اہلیہ شبانہ اعظمی کے ساتھ واہگہ بارڈر کے راستے فیض میلے میں شرکت کے لیے تین روزہ دورے پر لاہور آئے ہیں۔