2015 پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا سال ہوگا، سابق چیئرمین پی سی بیلاہور: نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ2015 پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا سال ہوگا، جنوری میں وزرا اعظم کی ملاقات کے بعد بھارتی دفترخارجہ سے بھی باہمی سیریز کیلیے گرین سگنل ملنے کی توقع ہے۔
ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ چند ماہ قبل انگلش بورڈ کے چیئرمین جائلز کلارک کی مدد سے آئرلینڈ سے لاہور میں3 ون ڈے میچزکا معاہدہ ہوا لیکن کراچی ایئرپورٹ پر ناخوشگوار واقعہ ہوگیا، اب آئندہ سال کرکٹ کی واپسی کا خواب ضرور پورا ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے پی سی بی کا مقدمہ لڑا اور آئی سی سی میں اہمیت بحال کرائی،بھارت سے 6 سیریز کا معاہدہ بھی طے کیا۔
مستعفی چیئرمین نجم سیٹھی نے دعویٰ کیاکہ گذشتہ مالی سال میں پی سی بی کو 800 ملین روپے منافع ہوا جو2011 کے بعد سب سے بہتر کارکردگی ہے۔انھوں نے کہا کہ جب میں نے چارج سبنھالا تو بورڈ دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، چیف فنانشل آفیسر نے پہلی میٹنگ میں ہی خدشات سے آگاہ کردیا، اخراجات میں کمی اور ٹی وی رائٹس کی فروخت سمیت وسائل میں اضافہ کرنے کی پالیسی اپناتے ہوئے مسائل پر قابو پالیا، فاضل اسٹاف اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کرکے انتظامی اخراجات میں 12فیصد کمی کی گئی، نیوٹرل وینیوز پر مقابلوں کا بجٹ بھی کم کیا گیا جس کے بہتر نتائج برآمد ہوئے۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ اپنے دور میں سفارشی کلچر کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے وقار یونس اور مشتاق احمد سمیت دیگر پروفیشنل کوچز کا تقرر کیا،اس سے ماحول میں خوشگوار تبدیلی آئی۔ انھوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کے فرسودہ نظام کی اصلاح کی جا رہی ہے،کراچی اور ملتان میں اکیڈمیز اگلے 12 ماہ میں فعال ہوجائیں گی، سپرلیگ کرانے کا بڑا قدم اٹھایا،اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو پی سی بی کو بہت آمدنی ہو سکتی ہے، میری پالیسیز کا تسلسل برقرار رہا تو4 برس میں پاکستان کرکٹ عروج پر ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ پی سی بی کے نئے آئین میں پیٹرن کے اختیارات بہت کم ہوچکے ہیں،اگر انھیں بالکل ہی ختم کر دیا جاتا توبورڈ ایک بے پتوار کا سفینہ بن جاتا،گورننگ بورڈ میں رہنے کا مقصد پالیسیزکے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔