لاہور:
سخت سردی کے باوجود پروہاکی لیگ کیمپ میں کھلاڑی ٹھنڈے فرش پر سونے پر مجبور ہیں، رہائش کیلیے دیے گئے کمرے پناہ گزین کیمپ کا منظر پیش کرنے لگے۔

تفصیلات کے مطابق پروہاکی لیگ 19 جنوری سے شروع ہو گی، ایونٹ میں 4 کنفیڈریشنز کی 9ٹیموں پاکستان، آسٹریلیا، بیلجیئم، ہالینڈ، جرمنی، انگلینڈ، ارجنٹائن،اسپین اور نیوزی لینڈ کو شرکت کرنا ہے، تیاریوں کیلیے کیمپ نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں جاری ہے، ورلڈ کپ سے قبل مالی مشکلات کا شکار پی ایچ ایچ کو ایک نجی کمپنی کی اسپانسرشپ حاصل ہوئی تھی، میگا ایونٹ میں ناقص کارکردگی کے بعد مسائل میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے،  سیکریٹری پی ایچ ایف شہباز سینئر کے استعفے سمیت متعدد عہدوں میں اکھاڑ پچھاڑ ہوچکی، فنڈز کی کمی بھی شدت سے محسوس ہورہی ہے، ان حالات میں کیمپ میں شریک کھلاڑیوں کو نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں  بیڈز دینے کے بجائے سخت سردی میں ٹھنڈے فرش پر سلایا جا رہا ہے، مجموعی طور پر 4کمروں میں 50سے زائد پلیئرز نیند پوری کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، کمرے کسی پناہ گزینوں کے کیمپ کا منظر پیش کررہے ہیں، دیگر سہولیات کے معیار پر بھی سوالیہ نشان موجود ہے۔

نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے چند کھلاڑیوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر  شکایات کے انبار لگا دیے،ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا ماحول فراہم کرنے کے بعد عالمی ہاکی کی بڑی ٹیموں کو ہرانے کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا۔ فنڈزکی کمی کے باعث کھلاڑیوں کیلیے مناسب رہائش کا انتظام نہ کرنے کا پی ایچ ایف کے قائم مقام سیکریٹری ایاز محمود نے بھی اعتراف کرلیا، انھوں نے کہا کہ میں50سے زائد کھلاڑیوں کو 4 کمروں میں ٹھہرانے کاکوئی جواز نہیں دے سکتا، اسپورٹس بورڈ آف پنجاب کے پاس زیادہ کمرے دستیاب نہیں تھے، میں سمجھتا ہوں کہ پرو لیگ میں جاکر شکست سے بہتر ہے کہ اپنے ڈومیسٹک مقابلوں پر پیسہ لگالیں، کھلاڑیوں کی فٹنس اور کھیل پر فنڈز خرچ کیے جائیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ حکومت، میڈیا اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کو قومی کھیل کی بہتری کیلئے کڑوے گھونٹ پینے ہوں گے۔