اسلام آباد:
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کچی آبادیوں اور قبضہ شدہ سرکاری اراضی کو خالی کراتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ غریب لوگوں کو متبادل اور معیاری رہائش گاہیں فراہم کی جائیں۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق وزیرِاعظم عمران خان کی زیرِصدارت سرکاری زمینوں اور جائیدادوں کو مناسب طور پر بروئے کار لانے کے حوالے سے وزیرِ اعظم آفس میں اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیرِدفاع پرویز خٹک، وزیرِاطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم، سیکرٹری ہاؤسنگ ڈاکٹر عمران زیب خان اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

سرکاری املاک کی نشاندہی اور ان کے مستقبل کے استعمال کے حوالے سے قائم کی گئی کمیٹی نے اب تک کی پیش رفت سے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا اور بتایا کہ اب تک وفاقی حکومت کی ایک ہزار 412 املاک  کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جن میں سے 112 املاک کی تصدیق کی جا چکی ہے، ان کا رقبہ 44 ہزار 350 کنال اور مالیت اربوں روپے ہے۔

 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں اب تک 44350 کنال پر مشتمل 43 پراپرٹیز جب کہ خیبر پختونخوا میں 91 املاک کی نشاندہی کی جا چکی ہے، اسلام آباد، لاہور، کراچی، ملتان، ایبٹ آباد اور دیگر بڑے شہروں میں اربوں کی سرکاری املاک کو استعمال میں لا کر نہ صرف ان کا صحیح مصرف یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ ان کو کثیر آمدنی کا مستقل ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے وزیرِ قانون بیرسٹر فروغ نسیم کو تصدیق شدہ املاک کو بروئے کار لانے کے حوالے سے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں میں قائم غیر قانونی کچی آبادیوں اور قبضہ شدہ سرکاری اراضی کو خالی کراتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ غریب لوگوں کو متبادل اور معیاری رہائش گاہیں فراہم کی جائیں۔

وزیراعظم نے کمیٹی کو اب تک نشاندہی کی جانے والی پراپرٹیز کی مالیت کا تخمینہ لگانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ سرکاری املاک کی نشاندہی کے عمل کو تیز کیا جائے، تعاون نہ کرنے والے محکموں اور افسران کی بھی نشاندہی کی جائے۔