481

تاریخی امن معاہدہ ، امریکی صدر ٹرمپ کا افغان طالبان لیڈر ملا برادر سے پہلا ٹیلیفونک رابطہ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخی امن معاہدے کے بعد افغان طالبان سے پہلا ٹیلیفونک رابطہ کیا، صدرٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا طالبان لیڈر سے بہت اچھی گفتگو کی، ہم تشدد نہیں چاہتے ،لیکن دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتاہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاافغان طالبان سے براہ راست پہلا رابطہ ہوا، صدرٹرمپ سے افغان طالبان رہنما ملا برادر  کی آدھےگھنٹےسےزائد فون پرگفتگو ہوئی۔

امریکی صدر ٹرمپ اورافغان طالبان کے ترجمان نےگفتگو کی تصدیق کردی ہے ، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ملا برادر نے صدر ٹرمپ سے سمجھوتے پرعملدرآمد کا کہا ہے ، یہ افغانوں کا بنیادی حق ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو سمجھوتے کے نکات  پر عمل ہو، امریکی وزیر خارجہ افغان صدر سے مذاکرات میں حائل رکاوٹ ختم کرنے کیلئے رابطہ کریں گے۔

گفتگو کے حوالے سے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ طالبان لیڈر سے بہت اچھی گفتگو کی, ہم دونوں رضامند ہیں کہ پرتشدد کاروائیاں نہیں ہونی چاہیئے ہم تشدد نہیں چاہتے ،لیکن دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتاہے۔

یہ بھی پڑھیں:کرونا وائرس: امریکا میں ہلاکتوں کی تعداد 9 ہوگئی

یا درہے غیرملکی خبررساں ادارے اے ایف نے دعویٰ کیا تھا  کہ افغان طالبان نے امریکا کے ساتھ دو روز قبل ہونے والا عارضی جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کردیا ہے۔

مزید پڑھیں : امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان رہنماؤں سےمستقبل قریب میں ملنےکاعندیہ
نیوز ایجنسی کے مطابق طالبان کا کہنا تھا  کہ افغانستان میں کارروائیاں جاری رکھیں گے،  امریکا کو 5 ہزار قیدیوں کی رہائی کا وعدہ پورا کرنا ہوگا ورنہ طالبان افغانستان میں کارروائیاں شروع کردیں گے۔

اس سے قبل افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ امریکا طالبان امن معاہدے کی اہم شرط سے پیچھے ہٹ گئے جبکہ طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کی رہائی کا کوئی وعدہ نہیں کی۔

خیال رہے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان رہنماؤں سے مستقبل قریب میں ملنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا عنقریب طالبان رہنماؤں سےملیں گے اور مئی تک افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد5ہزار تک کم کی جائےگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں