460

جرمنی کے دارلحکومت برلن میں پاکستانی سفارتخانے میں اور فرینکفرٹ میں موجود قونصلیٹ کشمیر سے اظہار یکجہتی کی تقریبات انعقاد

پوری دنیا کی طرح جرمنی کے مختلف شہروں میں بھی پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی نے کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد۔
رپورٹ مہوش خان جرمنی

5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر پوری دنیا میں بھر پور طریقے سے منایا گیا اور اسی سلسلے میں جرمنی کے دارلحکومت برلن میں پاکستانی سفارتخانے میں بھی اور جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں موجود قونصلیٹ میں اس حوالے سے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا

جس میں پاکستانی سفارتخانے و قونصلیٹ کے عملے کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔

برلن میں منعقد تقریب کا آغاز کشمیر کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم دیکھا کر کیا گیا جس میں کشمیر کی خوبصورتی اور وہاں بھارتی حکومت کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کو دکھایا گیا۔

اس کے بعد سفیر پاکستان جوہر سلیم نے صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا تھاکہ ہم پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔اور حالیہ پانچ ماہ سے لگے کرفیو نے دنیا کو ہندوستان کا اصل مکروہ چہرہ دکھا دیا ہے

جس کے بعد دنیا نے ہندوستان کے اس نام نہاد جمہوری رویہ کو مسترد کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں قرار داد پیش ہونے اور کشمیریوں کے حق میں فیصلہ آنے کے باوجود اب تک کشمیری اپنی حق خودارادیت سے محروم ہیں۔

اور پاکستان مسلسل کوششوں میں ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم دنیا کو دکھائے اور نام نہاد جمہوری ملک بھارت کا اصل چہرہ سب کے سامنے آئے۔

گو کہ آذادی پاکستان کے وقت یہ بات اٹل تھی کہ کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہی ہوگا۔مگر بھارت نے اپنی مکاری و چالاکی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے دھوکے سے کشمیر پر قبضہ کیا۔

اور اس وقت سے اب تک ساٹ دہائیاں گزر چکیں مگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے برلن میں تعینات سفیر جوہر سلیم کا کہنا تھا کہ
آج ہم یہاں پاکستانی کمیونٹی کشمیریوں سے تجدید عہد کے لئے جمع ہوئے ہیں۔

اور پانچ اگست کے بعد تو کشمیر کے تمام حالات دنیا کے سامنے ہیں جنھیں بھارت انتہائ خوبصورتی سے اپنا اندرونی مسلہ کہہ کر دنیا سے چھپا رہا تھا۔

تقریب میں موجود جرمن سیاسی جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی کے مقامی راہنما کرس ٹیان نے بھی اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کی یہ تقریب اور سفیر پاکستان کی تقریر انتہائ اہم تھی اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ اس مسلے کو دونوں ممالک آپس میں گفت و شنید سے حل کریں اور ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔

پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا تھا کہ حالیہ پانچ ماہ سے جو کرفیو وادی جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت نے لگا رکھا ہے ہم تمام عالمی برادی تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔

سفیر پاکستان کا اپنی تقریر میں یہی کہنا تھا کہ جس طرح سے حالیہ دنوں میں اس مسئلہ کو انٹرنیشنل لیول پر اٹھایا گیا ہے کہ اب تقریبا ہر روز ہی انٹر نیشنل میڈیا پر اس مسلئہ پر بات ہوتی نظر آتی ہے ۔

اس کا مطلب کہ ان شاء اللہ اب یہ مسئلہ حل ہونے کو ہے۔کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مسلہ کو حل ہونا ہو تو پہلے وہ انٹرنیشنل پبلک اوپینین میں اپنی جگہ بناتا ہے۔جیسے کہ ساوتھ افریقہ ،دیوار برلن اور روس کے ساتھ ہوا۔مطلب آذادی کی سحر ہونے کو ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں