366

سپریم کورٹ کا خواتین کے مقدمات میں خاتون تفتیشی افسر مقرر کرنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خواتین کے مقدمات میں خاتون کو ہی تفتیشی افسر مقرر کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے پولیس کو سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ذہنیت تبدیل کریں اور غلامی سے نکلیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں گوجرانوالہ میں خلع کے بعد اغوا کی جانے والی خاتون کی درخواست کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اہم احکامات جاری کردیے۔

سپریم کورٹ نے خواتین کے مقدمات میں خاتون کو ہی تفتیشی افسر بنانے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ ایس او پی تمام تھانوں میں آویزاں کردیے جائیں اور ایس او پی کا اردو ترجمہ تمام ایس ایچ اوز تک پہنچائے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:

کورونا وائرس : پاکستان کا افغانستان کیلئے بڑے تعاون کا فیصلہ

آئی جی کو آئی جی صاحب کہنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایس پی کی سخت سرزنش کر ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی صاحب کوئی نہیں ہوتا آئی جی صرف آئی جی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سنہ 47 میں آزادی حاصل کر لی تھی، لیکن پولیس ابھی تک انگریز کے دور میں ہے۔ دنیا میں کہیں آئی جی کو آئی جی صاحب نہیں کہا جاتا، پولیس اپنی ذہنیت تبدیل کرے اور غلامی سے نکلے۔

سپریم کورٹ نے خاتون کے کیس میں مرد تفتیشی افسرمقرر کرنے پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ ایس او پی کے مطابق خواتین کے مقدمات میں خاتون افسر تفتیش کر سکتی ہیں۔

وکیل نے کہا کہ گوجرانوالہ میں خاتون کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے مقدمے کی تفتیش مرد تفتیشی افسر نے کی، مرد افسر کی تفتیش پر عدالت نے سوال اٹھایا تو ایس پی نے آئی او کو شوکاز جاری کیا۔

عدالت نے ایس پی کے شوکاز نوٹس جاری کرنے پر سوال اٹھا دیا، عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ کیا ایس پی اپنے ماتحت جس کو وہ خود تعینات کرتا ہو شوکاز نوٹس جاری کرسکتا ہے؟

سرکاری وکیل نے کہا کہ ایس پی شوکاز نہیں جاری کر سکتا، نوٹس واپس لے لیا جائے گا۔

عدالت نے مرد تفتیشی افسر مقرر کرنے پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا حکم دے کر درخواست نمٹا دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں