585

لڑکی کی زبردستی شادی کرانے کی کوشش پر برمنگھم میں پاکستانی جوڑے کو لمبی قید

برمنگھم: برطانوی شہر برمنگھم میں پاکستان نژاد لڑکی کی زبردستی شادی کرانے کی کوشش پر پاکستانی جوڑے کو عدالت نے جیل بھیج دیا۔

تفصیلات کے مطابق برمنگھم میں کراؤن کورٹ نے 55 سالہ پاکستانی نژاد شخص کو 7 سال جب کہ ان کی 43 سالہ بیوی کو ایک سال قید کی سزا سنا دی، مجرمان میاں بیوی نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کر لیا، کہ انھوں نے 18 سالہ رشتے دار لڑکی کی زبردستی شادی کرانے کی کوشش کی تھی، اور اس کے ساتھ بدسلوکی بھی کرتے رہے تھے۔

میاں بیوی اور متاثرہ لڑکی کے نام قانونی وجوہ پر ظاہر نہیں کیے گئے ہیں، رپورٹس کے مطابق مجرمان لڑکی کے رشتہ دار تھے جو برطانیہ میں اس کی دیکھ بھال کر رہے تھے، جب کہ لڑکی کی والدہ کو ویزے کے مسائل کے باعث پاکستان واپس بھیجا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

فوجی کالونی میں گھر میں گیس لیکج دھماکا، 5 بچے زخمی

برطانوی میڈیا کے مطابق متاثرہ لڑکی کو 10 سال کی عمر میں پاکستان بھیجا گیا تھا جہاں اس کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا گیا، اسے کھانا تک نہیں دیا جاتا تھا، جذباتی اور جسمانی تشدد بھی کیا جاتا تھا، پاکستان میں نہایت بری صورت حال سے دوچار متاثرہ لڑکی 4 سال بعد برطانیہ لوٹی۔ اس موقع پر وہ برمنگھم میں ایک اور آنٹی کے ساتھ رہنے لگی جہاں اس نے اپنی تعلیم پوری کی اور ملازمت بھی حاصل کی۔

تاہم جولائی 2016 میں جب وہ ماں کے بیمار ہونے پر انھیں دیکھنے پاکستان گئی تو اس کے انکل نے اس سے پاسپورٹ چھین لیا اور اسے زبردستی شادی کے لیے مجبور کرنے لگے، لڑکی کے انکار پر انکل نے پستول سے بھی دھمکایا کہ یا تو ان کی پسند کی شادی کرے یا مرنے کے لیے تیار ہو جائے۔

بعد ازاں ایک دوست نے مدد کرتے ہوئے لڑکی کو فون لا کر دیا اور اس نے برطانوی سفارت خانے کو کال کر کے مدد طلب کی، برطانوی سفارت خانے نے پاکستانی سیکورٹی اداروں کے تعاون سے لڑکی کو واپس برطانیہ منتقل کیا تھا. خیال رہے کہ برطانوی قانون میں شادی کی کم سے کم عمر 21 سال ہے اور زبردستی شادی کی روک تھام کے لیے سخت قوانین رائج ہیں۔ مذکورہ میاں بیوی پر برطانیہ میں مقدمہ چلایا گیا اور جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں