415

مقبوضہ کشمیر میں عوام مشکلات کا شکار ہیں، برطانوی پارلیمانی ممبر ڈیبی ابراہمس

اسلام آباد: برطانوی پارلیمانی ممبر ڈیبی ابراہمس کا کہنا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں کیاہورہا ہے، کشمیری مشکلات کا شکار ہیں ،تعاون کرنے پر پاکستانی حکومت کے شکرگزارہیں ، ہمیں کشمیر کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔

تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی اور برطانوی پارلیمانی ممبر ڈیبی ابراہمس نے مشترکہ میڈیا کانفرنس کی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا برطانوی پارلیمانی ممبران کوپاکستان میں خوش آمدیدکہتاہوں، وہ جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں، ممبران دورے کے بعد اپنی رائےقائم کریں۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں 200دن گزر چکے مگر کرفیو ابھی بھی جاری ہے، حالات میں بڑی تبدیلی آئی ہے،صورتحال مزید بگڑی ہے، ہم ہاؤس آف کامن سےتوقع کرتےہیں، اور چاہتے ہیں برطانوی پارلیمنٹ میں قرارداد پاس ہو۔

شاہ محمودقریشی نے کہا کہ ایوان حکومتیں گراتی اور بناتی ہیں، جمہوریت کو اپنا کردار ادا کرناہوگا ، ہم سب کو اس اہم مسئلےپر آواز اٹھانی پڑےگی، برطانوی حکومت کےمتعدد حکام سے رابطے ہیں ، اعتراف تو کرتے ہیں تاہم اپنے مفاد کے باعث خاموش ہیں ، اس گروپ کی موجودگی میں توقع ہے برطانوی پارلیمان میں آوازاٹھےگی۔

یہ بھی پڑھیں:ہوا کے ذریعے سویا بین کے ذرات پھیلنے سے ہلاکتیں ہوئیں ، ڈاکٹر اقبال چوہدری

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی پارلیمانوں کو کشمیر پر آواز اٹھانی چاہیے، میونخ سیکیورٹی کونسل کہہ رہی ہے کشمیر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے۔

برطانوی پارلیمانی ممبر ڈیبی ابراہمس نے کہا پاکستانی دفترخارجہ کاشکریہ اداکرتی ہوں، مقبوضہ وادی میں کشمیری عوام کوکئی دنوں سےمشکلات کاسامناہے، ہمیں انسانی حقوق کی رپورٹ پرتشویش ہے، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے دورے کا مقصد حقائق جاننا ہے۔

ڈیبی ابراہمس کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے ہمیں مقبوضہ کشمیر کےدورے کی اجازت نہیں ، پاکستانی حکومت کے شکرگزارہیں کہ ہم سے ہر ممکن تعاون کیا، پاکستان کے مثبت رویے کاخیرمقدم کرتے ہیں ، امید ہے بھارت بھی پاکستان کی طرح تعاون کرے گا۔

برطانوی پارلیمانی ممبر نے کہا کہ اقوام متحدہ کےانسانی حقوق کےسربراہ بھی جلد پاکستان کا دورہ کریں گے ، سب جانتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیرمیں کیاہورہاہے، مقبوضہ وادی میں لوگ اپنے خاندانوں سےرابطہ نہیں کرپارہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں برطانوی حکومت نہیں پارلیمنٹ کی نمائندگی کررہے ہیں ، ہم کشمیر پر ایک گروپ کے طور پر کام کر رہے ہیں ، ہم ایک آزادانہ اور غیرجانبدارانہ پارلیمانی گروپ ہیں ، ہم برطانوی حکام پر اپنا دباؤ جاری رکھیں گے۔

ڈیبی ابراہمس نے کہا کہ ہمیں کشمیر کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی، یہ دنیا میں زمین کے تنازع میں سے ایک طویل المدت تنازع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں