156

نگران حکومت بمقابلہ صدر علوی

انوار الحق کاکڑ کی قیادت میں نگران حکومت بن گئی ہے جسے بظاہر نوے روز کے اندر ملک میں جنرل الیکشن کروانے ہیں ۔ نگران حکمران آ تو گئے ہیں ، آیا یہ حکمران بروقت الیکشن کروائیں گے یا نہیں ؟یہ ملین ڈالر سوال ہے جس کا جواب ہر کوئی جانے کی کوشش میں ہے
الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح اشارے دئیے جا رہے ہیں کہ بروقت الیکشن کروانا ان کے لئے بظاہر ممکن دکھائی نہیں دے رہا ۔ اس دوران صدر عارف علوی جو کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے دوران کچھ دبے رہے ، اب اپنے پر نکال رہے ہیں
سیاسی پنڈتوں کے مطابق آئندہ نوے روز میں الیکشن ہونگے یا نہیں ، اس بارے میں کوئی حتمی بات کرنا مشکل ہے تاہم یہ پیش گوئی وثوق سے کی جا سکتی ہے کہ پاکستانی سیاست کے حوالے سے آئندہ نوے سے کم روز بہت اہم ہیں ،ان عرصے میں بڑے نشیب و فراز آئیں گے

لاہور ( عثمان بن احمد ) پاکستان میں انوار الحق کاکڑ کی قیادت میں نگران حکومت بن گئی ہے جسے بظاہر نوے روز کے اندر ملک میں جنرل الیکشن کروانے ہیں ۔ نگران حکمران آ تو گئے ہیں ، آیا یہ حکمران بروقت الیکشن کروائیں گے یا نہیں ؟یہ ملین ڈالر سوال ہے جس کا جواب ہر کوئی جانے کی کوشش میں ہے تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح اشارے دئیے جا رہے ہیں کہ بروقت الیکشن کروانا ان کے لئے بظاہر ممکن دکھائی نہیں دے رہا ۔ اس دوران صدر عارف علوی جو کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے دوران کچھ دبے رہے ، اب اپنے پر نکال رہے ہیں ۔ صدر علوی کی جانب سے چیف الیکشن کمیشنر سکندر سلطان راجہ کو الیکشن کے انعقاد کی تاریخ مقرر کرنے کے حوالے سے مشاورت اور ملاقات کی دعوت دی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں صدر کی جانب سے باقاعدہ طور پر چیف الیکشن کمشنر کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز کے اندر عام انتخابات ضروری ہیں۔صدر کے خط کی کاپی ٹوئٹر پر جاری بھی کر دی گئی ہے ۔خط کی کاپی کے مطابق صدر مملکت نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی تجویز پر قومی اسمبلی 9 اگست 2023 کو تحلیل کردی تھی۔
صدر علوی جن کے عہدے کی معیاد بھی ستمبر میں ختم ہو رہی ہے ، کا خط میں چیف الیکشن کمشنر کو کہنا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 48 کی ذیلی شق 5 کے تحت صدر مملکت تاریخ دینے کا پابند ہے جو قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد عام انتخابات کے لیے 90 روز سے زیادہ نہ ہو۔
دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطاءبندیال جن کی مدت ملازمت میں ایک ماہ سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے، نے بھی ایسے لگتا ہے کہ جانے سے پہلے عمران خان کو کچھ بڑا اور نواز شریف اور شریف فیملی کو کچھ بڑا اپ سیٹ دے کر جانا ہے ، نے توشہ خانہ کیس میں اہم ریمارکس دئیے ہیں ۔ واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں ہی عمران خان کو مجرم قرار دے کر جیل بھیجا گیا ہے ۔
توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ بادی النظر میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں غلطیاں ہیں جن پر فی الحال مداخلت نہیں کریں گے۔توشہ خانہ کیس ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کے حوالے کرنے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف دائر درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل لطیف کھوسہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے وکیل امجد پرویز کے دلائل سنے۔
سیاسی پنڈتوں کے مطابق آئندہ نوے روز میں الیکشن ہونگے یا نہیں ، اس بارے میں کوئی حتمی بات کرنا مشکل ہے تاہم یہ پیش گوئی وثوق سے کی جا سکتی ہے کہ پاکستانی سیاست کے حوالے سے آئندہ نوے سے کم روز بہت اہم ہیں ،ان عرصے میں بڑے نشیب و فراز آئیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں