465

پاکستان میں کروناوائرس منتقل، ایئرپورٹ اور بارڈرز انتظامیہ پر سوالات اٹھ گئے

اسلام آباد: پاکستان میں جان لیوا کروناوائرس کے منتقل ہونے پر ایئرپورٹ اور بارڈرز پر مسافروں کی اسکریننگ پر سنگین سوالات اٹھ گئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایئرپورٹ اور بارڈرز انتظامیہ پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں، ایران میں کرونا کی علامت کے باوجود متاثرہ شخص ایئرپورٹ سے کلیئر کیسے ہوگیا؟

دوران پرواز یحیٰ جعفری کو الٹی آنے کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا؟ کلیئر کیسے ہوا؟

ادھر ڈی جی سول ایوی ایشن نے تمام ایئرپورٹ منیجرز کو نئے احکامات جاری کردیے۔ ڈجی جی سی اے کا کہنا ہے کہ تمام منیجرز بیرون ملک سے آنے والی پروازوں کی خود نگرانی کریں۔ کراچی، پشاور، اسلام آباد اور لاہور ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کا عمل مزید سخت کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:’’پاکستان سے متعلق سوال بھارتی میڈیا کو الٹا پڑگیا‘‘

ڈی جی سی اے نے حکم دی دیا کہ مسافروں کی مکمل طور پر اسکرنینگ کی جائے، عملہ ماسک کااستعمال لازمی کرے، تمام مسافروں سے ہیلتھ ڈیکلریشن فارم لازمی وصول کیے جائیں۔

دوسری جانب کرونا وائرس سے متاثرہ شخص یحیٰی کی میڈیکل رپورٹ اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یحییٰ جعفری پر کرونا وائرس کی علامات مشہد میں ظاہر ہوئیں، یحیٰی جعفری کو 18 فروری کو بخار سردرد کمزوری جسم کی شکایت ہوئی، 20فروری کو دوران پرواز یحییٰ جعفری نے الٹیاں کیں۔

حکومت سندھ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 25فروری کو یحییٰ جعفری کی ناک سے پانی بہنے لگا، کھانسی بھی ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں