400

کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا

اسلام آباد : ایران میں کرونا وائرس سے 5 افراد کی ہلاکتوں کے بعد وائرس کی پاکستان منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے،تفتان بارڈرسےیومیہ ہزاروں زائرین پاکستان داخل ہوتےہیں اور بارڈر پر کرونااسکریننگ کےانتظامات موجودنہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایران سے کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کے خدشات بڑھ گئے ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ تافتان بارڈر سے روز ہزاروں زائرین پاکستان میں داخل ہوتے ہیں تاہم پاک ایران تافتان بارڈر پر کرونا سکریننگ کے انتظامات نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرونا اسکریننگ کے انتظامات کوئٹہ ایئرپورٹ پر کیےگئےہیں، سینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کوعملےکی شدیدکمی کاسامناہے ، ایئرپورٹ،زمینی سرحدپرسینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کاعملہ تعینات ہوتاہے۔

ذرائع وزارت صحت کے مطابق طورخم،تفتان بارڈرپرتعیناتی کیلئے عملےکی بھرتیاں جاری ہیں، بھرتیاں مکمل ہونےپرعملہ تعینات کیاجائےگا جبکہ اسلام آبادایئرپورٹ پروفاقی اسپتالوں کاعملہ تعینات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شوہرکی دوسری شادی میں پہلی بیوی کی دبنگ انٹری ، تقریب میدان جنگ بن گئی

خیال رہے ایران میں کورونا وائرس سے 5اموات ہوچکی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 28ہوگئی، کروناوائرس سے اموات قم اوراطراف کے علاقوں میں ہوئیں، عالمی ادارہ صحت نے ایران میں کرونا وائرس پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ عراق اورافغانستان نےایرانی باشندوں کی آمد ورفت محدودکردی ہیں۔

اس سے قبل ایرانی وزارت صحت کے حکام نے کہا تھا کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ایرانی شہر قم میں ایک اسپتال میں الگ تھلگ رکھا گیا ہے اور قم میں کرونا وائرس پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے اور جامعات بند کردی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں ، وائرس سے فوت ہونے والے مریض عمر رسیدہ تھے جبکہ کرونا وائرس کے سبب کویت نے ایران کے لیے تمام پروازیں معطل کر دیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں