لاہور: پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ناصرجمشید نے ابتدائی جواب ٹریبیونل کو جمع کروا دیا۔

پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کے آغاز میں ہی سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ناصر جمشید پر سہولت کاری کا الزام عائد کیا تھا، اسی کیس میں انگلینڈ میں گرفتار رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہونے والے اوپنر لاہور میں اینٹی کرپشن ٹریبیونل کے سامنے پیش نہیں ہوئے،انھوں نے معلومات فراہم کرنے سے بھی گریز کیا جس پر تحقیقات میں عدم تعاون پر ایک سال کیلیے معطل کیا گیا تھا، اب ٹریبیونل میں فکسنگ الزامات کے تحت کیس جاری ہے۔

گزشتہ روز این سی اے نے کیس میں سماعت کے دوران کرکٹر کے وکیل حسن وڑائچ نے ابتدائی جواب جمع کروا دیا جس کے بعد اگلی سماعت 22 مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے حسن وڑائچ نے کہا کہ پی سی بی کے پاس کوئی نئی بات نہیں، پرانی کہانی سنارہا ہے، گزشتہ سال بھی میڈیا کو بتاتا رہا ہوں کہ کوئی ثبوت نہیں، ان کون سے نئے شواہد مل گئے کہ پھر کارروائی شروع کردی، میری باتوں کا پی سی بی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

پی سی بی کے مشیر تفضل رضوی نے کہا کہ ناصرجمشید کے وکیل نے ٹرائل پر ہی اعتراض اٹھایا ہے،ان کا خیال ہے کہ ایک جرم میں دوبار کیس نہیں چلایا جاسکتا، صورتحال یہ ہے کہ پہلے تحقیقات میں عدم تعاون پر ایک سال کیلیے معطل کیا گیا تھا، موجودہ کیس میں فکسنگ کے چارجز ہیں، ہمارے پاس ٹھوس ثبوت ہیں جو ٹریبیونل کو دے دیے ہیں،ناصر جمشید کو کیس کا سامنا اور ٹریبیونل کا فیصلہ قبول کرنا پڑے گا۔