Finance Minister Muhammad Aurangzeb 224

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کئی ارب ڈالر کے نئے قرضہ معاہدے پربات چیت کاآغازکردیاگیا،وفاقی وزیرخزانہ

واشنگٹن۔16اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات محمداورنگزیب نے کہاہے کہ اقتصادی اصلاحات کے پروگرام میں معاونت کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کئی ارب ڈالر کے نئے قرضہ معاہدے پربات چیت کاآغازکردیاگیاہے، تجارتی جنگ میں پاکستان کیلئے ویت نام جیسا کرداراداکرنے اور امریکا کو اپنی برآمدات میں اضافہ کرنے کا ایک اچھا موقع میسر ہے، آئی ایم ایف اورعالمی بینک جیسے اداروں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں مالیاتی شمولیت اور ماحولیاتی لحاظ سے موزوں ڈھانچہ جات ومنصوبوں میں تعاون کیلئے آگے آناچاہئے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں اور سر مایہ کاری کی شرح کو 15 فیصدکی سطح پرلانے کی کوشش کررہے ہیں،سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے سنگاپوراوردبئی کی طرح ہمیں بھی مائنڈ سیٹ میں تبدیلی لاناہوگی۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اورعالمی بینک کے موسم بہارکے سالانہ اجلاس کے موقع پراٹلانٹک کونسل سے خطاب،بااثر پاکستانی امریکی تاجروں اور ٹیک انٹرپرینیورز سے ملاقات اورفرانسیسی خبررساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ بااثر پاکستانی امریکی تاجروں اور ٹیک انٹرپرینیورز سے ملاقات میں وزیرخزانہ نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں پاکستانی تارکین وطن کے اہم کردار کی تعریف کی اور کہاکہ اورسیز پاکستانی بزنس مین پاک امریکا تجارتی وسرمایہ کاری تعلقات کو گہرا کرنے میں پل کا کرداراداکررہے ہیں وفاقی وزیر نے کاروبار کے لیے سازگار ماحول کو بہتر بنانے اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے مختلف اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی صلاحیتوں اوراستعداد کو خاص طور پر اجاگر کیا اورکہاکہ پاکستان 10 لاکھ سے زیادہ فری لانسرز کمیونٹی کاحامل ملک ہے جو فری لانس مارکیٹ میں عالمی سطح پر تیسرے نمبر پر ہے ملک میں 250 سے زیادہ تسلیم شدہ یونیورسٹیوں سے سالانہ 75,000 آئی ٹی گریجویٹ فارغ ہورہے ہیں ۔ وزیرخزانہ نے شرکا کو پاکستان میں زراعت، آئی ٹی، کان کنی اور توانائی کے اہم شعبوں میں بڑھتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ شرکا نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہا اور پاک امریکا اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں گہری دلچسپی ظاہرکی۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی کوانٹرویودیتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ اقتصادی اصلاحات کے پروگرام میں معاونت کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کئی ارب ڈالر کے نئے قرضہ معاہدے پربات چیت کاآغازکردیاگیاہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ اس پہلے سے موجودہ تین ارب ڈالرمالیت کے سٹینڈبائی معاہدے کے تحت پروگرام ختم ہونے کے قریب ہے اور اس معاہدے کی 1.1 بلین ڈالر کی حتمی قسط کے اس ماہ کے آخر میں منظور ہونے کا امکان ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان نے کئی ارب ڈالرمالیت کے قرضہ پروگرام کے حوالہ سے آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے جوکئی سالوں پرمحیط ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال کے برعکس اس سال پاکستان کی معیشت کا اچھا آغازہواہے، آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام کے امکانات کے ساتھ ہی مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان آئی ایم ایف کو کم سے کم تین سالہ پروگرام کے لیے رابطہ کررہاہے کیونکہ ہمیں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے کوعملی جامہ پہنانے کیلئے اس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا مئی کے دوسرے یا تیسرے ہفتے تک پروگرام سے متعلق بنیادی امورکو طے کرنے تک پہنچ جائیں گے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ امریکا پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت داری ہے۔ امریکا نے ہمیشہ بالخصوص سرمایہ کاری کے حوالہ سے پاکستان کی مددکی ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کاذکرکرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ اس کے تحت چین نے بنیادی ڈھانچہ کوترقی دینے کیلئے وسیع سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تجارتی جنگ میں پاکستان کیلئے ویت نام جیسا کرداراداکرنے اور اپنی برآمدات میں اضافہ کا ایک اچھا موقع ہے۔ریاستی ملکیتی اداروں میں اصلاحات اورنجکاری پروگرام کے سوال پرانہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے ہمیں اگلے ماہ یا اس سے کچھ زیادہ مدت مین ممکنہ بولی دہندگان کی دلچسپی کے حوالے سے معلوم ہو جائے گا اورہماری خواہش ہے کہ اس عمل کو جون کے آخر تک مکمل کیا جائے۔ آنے والے دوبرسوں میں نجکاری کے پروگرام میں تیزی لائی جائیگی۔ واضح رہے کہ وزیرخزانہ آئی ایم ایف اورعالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پرامریکا کادورہ کررہے ہیں۔

دریں اثنا معروف امریکی تھینک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ آئی ایم ایف اورعالمی بینک جیسے اداروں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں مالیاتی شمولیت اور ماحولیاتی لحاظ سے موزوں ڈھانچہ جات ومنصوبوں میں تعاون کیلئے آگے آناچاہئیے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں اور سر مایہ کاری کی شرح کو 15 فیصدکی سطح پرلانے کی کوشش کررہے ہیں،سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے سنگاپوراوردبئی کی طرح ہمیں بھی مائنڈ سیٹ میں تبدیلی لاناہوگی۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ اس سال معیشت کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، ایس بی اے پروگرام سے کلی معیشت کے استحکام میں مددملی، جی ڈی پی درست سمت میں ہے،زراعت میں 5 فیصدنمو ہوئی،خدمات کے شعبہ میں بھی نموہوئی ہے، افراط زرکی شرح 37 فیصدکی بلند ترین سطح سے 20 فیصد کی شرح پرآئی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں نمو کے پہلو کو اہمیت دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گورننس میں بہتری سے معاملات بہتری کی طرف جاسکتے ہیں، کوشش ہوگی کہ اپنے سابقہ تجربہ کو ملکی بہتری کیلئے استعمال میں لایا جائے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح کو 15 فیصد اور اسی طرح جی ڈی پی کے تناسب سے سر مایہ کاری کی شرح کوبھی 15 فیصدکی سطح پرلایا جائے، ہمیں برآمدات میں اضافہ اور نجکاری کے ایجنڈا کو آگے بڑھاناہے، یہ وہ امورہیں جوہماری معیشت کیلئے ضروری ہے اوریہ وہ امورہیں جن پرآئی ایم ایف کے ساتھ ہماری بات چیت ہوتی رہی ہے اورآگے بھی ہوگی۔اگرہم نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات پرعمل درآمدنہیں کیا تو ہمیں مستقبل میں بھی آئی ایم ایف پرانحصارکرنا ہوگا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ آئی ایم ایف مشن کے ساتھ گزشتہ بات چیت مثبت اورتعمیری رہی ہے۔ ہم باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ایس بی اے پروگرام کے حوالہ سے پاکستان نے تمام نکات پر عمل درآمدکیاہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ قلیل المدت بنیادوں پرٹیکس لیکجزکوبند اورٹیکسوں سے متعلق مقدمات کو ٹریبونلز کے ذریعہ جلد نمٹانا چاہتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی بنیاداور دائرہ کارمیں توسیع ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔صنعت، خدمات، ری ٹیل ہول سیلز اورزراعت کا جی ڈی پی میں جو حصہ ہے اسی تناسب سے ٹیکسوں کاتناسب نہیں، اس ضمن میں ہم ٹیکنالوجی کو بروئے کارلارہے ہیں۔ ٹیکس کے نظام میں انسانی مداخلت کوکم کرنے کیلئے موثرانداز میں کام ہورہاہے۔ اس سے نظام میں شفافیت آئیگی، اخراجات پرقابوپانے اور پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے زریعہ ہم اتنی مالی گنجائش پیداکرسکتے ہیں جن سے چائلڈسٹنٹنگ اوردیگرعوامی مسائل کے حل کیلئے وسائل دستیاب ہوسکتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہاکہ سرمایہ کاری کیلئے پالیسیاں موجودہے مگراس پرعمل درآمدکی ضرورت ہے، سنگاپوراوردبئی کی طرح ہمیں بھی مائنڈ سیٹ میں تبدیلی لاناہوگی۔ہمیں سنگل ونڈوز کے ذریعہ نہ صرف غیرملکی بلکہ ملکی سرمایہ کاروں کوبھی سرمایہ کاری کی طرف لاناہوگا کیونکہ اس سے روزگارکے مواقع بڑھیں گے۔انہوں نے کہاکہ مختصر مدت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اورزراعت پرہماری توجہ ہے، یہ ایسے شعبہ جات ہیں جن سے پیداوارمیں جلد اضافہ ممکن ہوگا۔درمیانی مدت کیلئے کان کنی اورمتعلقہ شعبہ جات حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ مالیاتی انکلوژن اور موسمیاتی تبدیلی دو اہم امورہیں، آئی ایم ایف اورعالمی بینک جیسے اداروں کو پاکستان جیسے موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں مالیاتی شمولیت اور ماحولیاتی لحاظ سے موزوں ڈھانچہ جات ومنصوبوں میں تعاون کیلئے آگے آناچاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں