اسلام آباد:  سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں وفاقی حکومت نے کیس جلد مکمل کرنے کی درخواست کردی۔

جسٹس یاور علی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کی خصوصی عدالت میں سماعت کی۔ وفاقی حکومت نے کیس جلد مکمل کرنے کی درخواست دائر کی۔ عدالت نے پراسیکیوٹر اکرم شیخ کے رویے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اگر اکرم شیخ نے کیس چھوڑنا تھا تو درخواست کیوں نہیں دی۔ جسٹس یاور علی نے ریمارکس میں کہا کہ پرویز مشرف کا 342 کا بیان ریکارڈ کرنا ضروری ہے۔

وکیل استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف بار بار طلبی کے باوجود پیش نہیں ہو رہے، جس پر سابق صدر کے وکیل اختر شاہ نے کہا کہ پرویز مشرف عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں تاہم سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پیش نہیں ہو رہے۔

جسٹس نذر اکبر نے ریمارکس میں کہا کہ پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں جب کہ ان کو سکیورٹی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 29 اگست تک ملتوی کردی۔