یاؤندے:
افریقی ملک کیمرون میں علیحدگی پسندوں نے یرغمال بنائے گئے 79 طلبا کو رہا کردیا تاہم اسکول کے پرنسپل، استاد اور ڈرائیور کو رہا کرنے سے انکار کردیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کیمرون میں علیحدگی پسندوں کے چنگل سے 79 طلبا کو رہائی مل گئی ہے تاہم اسکول کے پرنسپل، استاد اور ڈرائیور تاحال اغوا کاروں کے نرغے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ کیمرون چرچ کی مداخلت پر مسلح افراد بچوں کو رہا کرنے پر راضی ہوئے لیکن اسکول کی بندش کے مطالبے کے پورا ہونے تک اسکول کے پرنسپل، استاد اور ڈرائیور کو رہا کرنے سے انکار کردیا ہے۔

 

کیمرون کے علیحدگی پسند مسلح گروہ نے اتوار کے روز بورڈنگ اسکول سے 79 طلبا، اسکول کے پرنسپل، استاد اور ایک ڈرائیور کو اغوا کرکے اسکول کی بندش کا مطالبہ کیا تھا۔ رہائی پانے والے بچوں کو پوچھ گچھ کے بعد والدین کے حوالے کیا جائے گا۔

یہ خبر بھی پڑھیں : کیمرون میں علیحدگی پسندوں نے 79 طلبا کو پرنسپل سمیت اغوا کرلیا

کیمرون چرچ (جس نے بچوں کی رہائی کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے) کا کہنا ہے کہ اس اسکول سے بچوں کے اغوا کا ایک ماہ میں یہ دوسرا واقعہ ہے اس سے قبل 11 اکتوبر کو 10 سے زائد بچوں کو اغوا کرلیا گیا تھا تاہم انہیں بھی رہا کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کیمرون کے ان علاقوں میں زیادہ تر انگریزی بولنے افریقی آباد ہیں جو فرانسیسی زبان بولنے والے حکمراں طبقے کے امتیازی سلوک سے نالاں ہیں اور آزاد ریاست کے لیے گزشتہ 4 برس سے مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔