اسلام آباد:  وفاقی وزیر پٹرولیم و گیس غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ (ن) لیگ کے خلاف بات کرنا ثواب سمجھتا ہوں کیونکہ ملک میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہی پانی اور بجلی کے بحرانوں کی ذمہ دار ہے۔

لاہور میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے ہیڈ آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ گیس کمپنیوں کو گیس چوری اور لائن لائسسز کی مد میں سالانہ 48 ارب روپے نقصان ہو رہا ہے۔ سب سے زیادہ گیس چوری خیبر پختونخوا میں ہو رہی ہے۔ گیس چوری اور لائسسز کو کم کرنے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ ہر سال 2 ارب کے قریب لاسسز کم کریں گے۔ سردیوں میں بھی صنعتوں کو گیس فراہم کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایران اور قطر کے ساتھ گیس کی درآمد کے حوالے سے معاہدے برقرار رہیں گے، ایل این جی معاہدے 15 سال کے لیے ہیں اور ان کو دیکھا بھی نہیں جاسکتا، ایل این جی کا کیس عدالت اور نیب دیکھ رہی ہے، کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے یہ لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ تاپی گیس پائپ لائن منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے، ترکمانستان کے سفیر نے بتایا ہے کہ افغانستان میں پائپ لائن بچھانے کا گراؤنڈ پر کام شروع ہو چکا ہے۔

 

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ (ن) لیگ کے خلاف بات کرنا میں ثواب سمجھتا ہوں، ملک کو درپیش پانی اور بجلی کے بحرانوں کی ذمہ دار یہی دو جماعتیں ہیں، کیونکہ یہی جماعتیں برسہا برس اقتدار میں رہی لیکن انہوں نے یہ مسئلہ حل نہیں کیا، ہماری حکومت نے سو دنوں میں سمت کا تعین کر لیا ہے، بہت جلد عوام کو ثمرات ملنا شروع ہو جائیں گے۔