115

زہریلی گیس کے بعد ماہرین نے ایک اور خطرے کی گھنٹی بجادی

کراچی : ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی پورٹ پر سویا بین کے ساتھ ساتھ کوئلے کے ذرات سے  بھی انسانی صحت کوخطرات ہیں ، کوئلےکےذرات سےبھی علاقےمیں سانس کی بیماریاں پھیل سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی پورٹ پر اتوار کو سویا بین کے ساتھ ساتھ کوئلے کے جہاز بھی لنگر انداز تھا، پورٹ پرکوئلےکی ہینڈلنگ کی وجہ سے بھی انسانی صحت کوخطرات ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کیماڑی میں کوئلے کے ذرات سے بھی انسانی صحت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور علاقے میں سانس کی بیماریاں پھیل سکتی ہے، کوئلے کے ماحولیاتی اثرات کے بارے میں سندھ ہائیکورٹ میں پہلے ہی درخواست زیر سماعت ہے۔

خیال رہے کہ کیماڑی میں زہریلی گیس سے دو روز کے دوران اب تک 14 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ 300 سے زائد افراد متاثر ہوئے جو شہر کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

جامعہ کراچی کے ماہرین نے ابتدائی رپورٹ کمشنر کراچی کوارسال کر دی ہے ، ریسرچ آف کیمسٹری جامعہ کراچی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاں بحق افراد کے خون کے نمونوں کی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی، نمونوں میں سویابین کے ذرات کا انکشاف ہوا، سویابین ذرات انسانی صحت کے لیے خطرناک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سویابین لانے والا بحری جہاز کراچی پورٹ سے ہٹایا جائے گا

واضح  رہے کراچی کےعلاقےکیماڑی میں زہریلی گیس کااخراج سے متاثرین کی تعدادمیں اضافہ ہوتاجارہاہے، خدشہ ظاہرکیاجارہا ہے کہ یہ آلودگی سویا بین کے جہاز سے پھیل رہی ہے، ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے، اس سے پہلے بھی سویا بین کے جہازوں کی آف لوڈنگ کے باعث ایسا ہوا تھا، ایساہی واقعہ اسپین کےشہربارسلونا میں پیش آیا تھا۔

جرنل آف ایپیٹیمولوجی اینڈکمیونیٹی ہیلتھ کی رپورٹ کے مطابق انیس سوستاسی میں اسپین کےشہربارسلونامیں سویابین دمے کی وباپھیلی، تحقیقات سےپتہ چلا کہ سویا بین کےجہازوں کی آف لوڈنگ کےدوران نکلنےوالی آلودگی دمےکاباعث بن رہی تھی۔

جس کے بعد بارسلونا کی انتظامیہ نےسویا بین کےجہازوں کی ان لوڈنگ کیلئے خفاظتی اقدامات کئے جودیرپاثابت نہیں ہوئے، انیس سو چھیانوےمیں ایک بارپھردمےکی وبا پھوٹ پڑی۔اس بارزیادہ تر ایسےافراد تھےجوپہلےبھی اس مرض کاشکارہوئےتھے۔

مڈیکل جرنل کی رپورٹ میں کہا گیاکہ شہری آبادی کے قریب سویا بین کےجہازوں کی ان لوڈنگ کیلئےحفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں