220

زرعی اجناس کی سرکاری سطع پر خرید

تحریر: سمعیہ اسلم

پاکستان کی 70فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے.اور اس تمام تر آبادی کا بلواسطہ یا بلاواسطہ تعلق کاشت کاری سے ہے.ہمارے ملک کے ایک بڑے حصے میں سال میں دو فصلیں اگائی جاتی ہیں.جس میں گندم اور چاول کی فصل نمایاں ہے.دونوں اجناس کی سرکاری سطع پر حکومت ہر سال ایک قیمت بے کرتی ہے.اور پھر سرکاری مراکز خرید پر ہزاروں ٹن چاول اور گندم کسانوں سے خریدا جاتا ہے.

حکومت اس سلسلے میں بجٹ کا بہت سا حصہ مختص کرتی ہے.تاکہ کسانوں سے مارکیٹ یا آڑھتی کے ریٹ سے زیادہ ریٹ پر اجناس خریدی جا سکیں.جس سے عریب کسانوں کو معاشی فائدہ پہنچے.
عریب کسانوں کی مدد کا یہ نظریہ تو بظاہر بہت عمدہ ہے.لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے.سرکاری خرید کا وضع کردہ نظام در حقیقت غریب کسان کا معاشی استحصال ہے.اور اس سے آڑھتی اور طاقتور قسم کے زرعی بزنس مین اور کئی سیاسی شخصیات ہر سال اربوں روپے کماتے ہیں.حکومتی سطع پر اس نظام میں موجود تمام تر خامیوں بخوبی معلوم ہونے کے باوجود بھی کبھی صحیح معنوں میں اس کی درستگی کے لیے اقدام نہیں اٹھایا جا سکا.جسکی اصل وجہ ان طاقتور سیاسی شخصیات اور زرعی بزنس مینوں کا اثرورسوخ ہے.
اس نظام کے تحت کسانوں کو اپنے زرعی پیداوار فروخت کرنے کے لیے باردانہ(مخصوص تھیلا ) حاصل کرنا پڑتا ہے.جس میں وہ گندم یا چاول کی اجناس کو ڈال کرسرکاری خرید مراکز پہنچاتے ہیں.باردانہ کا حصول ہی اصل کرپشن کی جڑ ہے . اصل حق داروں تک اسکی ترسیل ہو ہی نہیں پاتی کیونکہ با اثر آڑھتی اور سیاستدان اپنے من پسند زرعی بزنس مین کے ہاتھوں میں غیر منصفانہ تقسیم کروا کران کو فائدہ پہنچاتے ہیں.اس نظام کی بہتری اور حق داروں تک اسکا حق پہنچانے کے لیے چند گزارشات درج ذیل ہیں.

1.بار دانہ کی تقسیم کے نظام کو ڈیجیٹل کر دیا جائے.اور بائومیٹرک شناخت صرف متعلقہ مالک زمین کو اس کے رقبے کے لحاظ سے باردانہ مہیا کیا جائے.
2.اس حوالے سے خاص خیال رکھا جائے کہ چھوٹے زمینداروں کو ترجیع بنیادوں پر باردانہ تقسیم کیا جائے.
3.باردانہ تقسیم کے مراکز عارضی طور پر تمام نجی منڈیوں میں بھی قائم کیے جائیں.
4. اجناس کی خریداری کے مراکز میں اضافہ کیا جائے.
5.محکمہ خوراک کو مناسب ٹرانسپورٹ مہیا کی جائیں.
6.اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ باردانہ صرف حقدار کسانوں کو ان کے رقبے کے لحاظ سے ہی تقسیم کیا جائے.اور اس عمل سے سیاسی شخصیات اور دیگر با اثر افراد کا کوئی لین دین نہ ہو.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں