345

سانحہ ماڈل ٹاؤن : قتل صرف قتل ہوتا ہے، اہم یا غیر اہم نہیں، چیف جسٹس سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی کو کام روکنے سے متعلق درخواست میں فریقین کو نوٹس جاری کردیے، چیف جسٹس نے کہا کہ قتل کا کوئی واقعہ اہم یا غیر اہم نہیں ہوتا سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے دو فریقین خرم علی اور رضوان قادر کو نوٹس جاری کردیا۔

دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے لواحقین کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہائیکورٹ نے نئی جے آئی ٹی کو کام کرنے سے روک دیا ہے، یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی تھی، لہٰذا ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قراردیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل 16 تا 19 فروری پاکستان کا دورہ کریں گے

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ نئی جے آئی ٹی کا حکم سپریم کورٹ نے نہیں دیا ،یہ حکومت نے بنائی تھی، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ٹرائل جاری ہے ،200سے زائد گواہان کے بیانات بھی قلمبند ہوچکے۔

وکیل حکومت پنجاب کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر مداخلت کیوں ضروری ہے؟ یہ ایک اہم واقعہ ہے عام نہیں،10مرد خواتین جاں بحق اور60سے زائد زخمی ہوئے، پہلی جے آئی ٹی اسی حکومت نے بنائی تھی جس پر الزام تھا، پہلی جے آئی ٹی میں زخمیوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کئے گئے وہ جانبدارتھی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ قتل کا کوئی واقعہ اہم یا غیر اہم نہیں ہوتا سب ایک جیسے ہوتے ہیں، ایک کے بعد دوسری جے آئی ٹی بنا کر ٹرائل میں رکاوٹ پیدانہیں کی جاسکتی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایک سے زائد تحقیقاتی کمیٹی میں آئین کے مطابق کوئی رکاو ٹ نہیں، ٹرائل بھی جاری رہے اور تحقیقات بھی جاری رہے تو کوئی حرج نہیں، نئی شہادتیں سامنے آسکتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی صورت میں فریقین کو نوٹس دینا پڑے گا جن کیلئےعبوری حکم آیا،بعد ازاں سپریم کورٹ نے دو فریقین خرم علی اور رضوان قادر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست کی سماعت 13فروری تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں